‏میں نے اعترافِ مُحبت کے بعد مُحبتوں کو پھیکا پڑتے بھی دیکھا ہے...!!!




کالج میں ایک اسٹوڈنٹ نے انگریزی کےپروفیسر سے پوچھا ۔ سر " نٹورے " کا کیا مطلب ہوا؟ " نٹورے " ؟؟؟ پروفیسر نے
 حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
" ٹھیک ہے میں تجھے بعد میں بتاتا ہوں ، میرے آفس میں آ جانا۔ " پروفیسر نے اسے ٹالنے کے لیئے کہا۔
یہ وہاں بھی پہونچ گیا، بتائیے سر، " نٹورے " یعنی کیا؟ پروفیسر نے کہا میں تجھے کل بتاتا ہوں ۔ پروفیسر صاحب رات بھر پریشان رہے، ڈکشنری میں ڈھونڈا، انٹرنیٹ پر ڈھونڈا ۔
دوسرے دن پھر وہی سر، " نٹورے" یعنی کیا؟
اب پروفیسر صاحب اس سے دوری بنانے لگے اور اسے دیکھتے ہی اس سے کترا کے نکلنے لگے ۔ لیکن یہ پٹھا ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ۔
ایک دن پروفیسر صاحب نے اس سے پوچھا جس "نٹورے" لفظ کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو، یہ کونسی زبان کا لفظ ہے؟ اس نے جواب دیا - انگلش۔ پروفیسر صاحب نے کہا اسسپیلنگ بولو ۔ اس نے کہا :
N-A-T-U-R-E. 
یہ سنتے ہی پروفیسر صاحب کے غصے کی آگ  ان کے دماغ تک پہونچ گئی ۔ کہنے لگے " حرامخور! ہفتے بھر سے میرے جی کو جنجال میں ڈال رکھا ہے ۔ اس ٹینشن میں میں بھوکا پیاسا رہا، رات رات بھر جاگا اور تو " نیچر " کو " نٹورے، نٹورے " بول بول کر مجھے پریشان کر رکھا ہے ۔ ٹھہر تجھے کالج سے ہی ابھی نکلواتا ہوں ۔
کہنے لگا، نہیں سر، میں آپ کے پاؤں پڑتا ہوں، اب میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں پوچھوں گا۔ پلیز مجھے کالج سے نہ نکالیں 
، میرا "فٹورے"
F-U-T-U-R-E. 
برباد ہو جائے گا..
باخبر ذرائع سے پتا چلا ہے کہ پاکستان میں اب تک پچاس ساٹھ افراد بلیو وہیل کا شکا ر بن چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی شامل ہے ۔حکومت کے دباو میں آکر میڈیا اس کی خبر تشہیر نہیں کر رہا تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس نہ پھیلے ۔ان تمام نے پچاسویں ٹاسک میں جا کر زندگی کی بازی ہاری ہے ۔ مزید تفصیلات کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بلیو وہیل ہر آدمی کو آخری ٹاسک خود کشی کا نہیں دیتی ۔خود کشی کرنا یا موت کو گلے لگانا یہ دوسری چنوتی ہوتی ہے اگر گیم کھیلنے والابلیو وہیل کی طرف سے بتائے گئے پچاسویں ٹاسک کو پورا نہ کر سکے یا ایسا کرنے ہی سے انکار کر دے تب اسے خود کشی کا آپشن چننا پڑتا ہے ۔رپورٹ دینے والے نمائندے کے مطابق مرنے والی خواتین میں سے دو کو بلیو وہیل نے آخری ٹاسک یہ دیا تھا کہ اپنی صحیح عمر بتائیں اور انھوں نے یہ راز ظاہر کرنے کے بجائے دوسرے آپشن کا انتخاب کرلیا ۔جبکہ تین خواتین کو بغیر میک اپ کے اپنی تصویر فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کا حکم ملا تھا۔ایک اور خاتون کوایک گھنٹا خاموش بیٹھے رہنے کا ٹاسک ملا تھا ۔جو اس نے قبول کر لیا ، پتا یہی چلا کہ وہ بیس منٹ بھی زندہ نہیں رہ پائی ۔چار لڑکیوں کو ایک ہفتے کے لیے فیس بک استعمال نہ کرنے کی ہدایت ملی تین تو دوسرے دن ہی اس جگہ پہنچ گئیں جہاں بلیو وہیل انھیں پہنچانا چاہتی تھی ۔چوتھی سخت جان تھی۔ اس نے کہیں چوتھے دن جا کر سسکتے سسکتے جان دی اور مرنے سے پہلے اپنا اکاو ¿نٹ اپ ڈیٹ کرنا نہ بھولی۔ایک خاتون کو چوبیس گھنٹوں کے لیے ساس کی فرماں برداری کا حکم ملا تھا۔سنا ہے وہ تو بچ گئی اس کی ساس کا خوشی سے ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے ۔
گیم کھیلنے والوں میں تین شیخ بھی شامل تھے ۔ان سے بلیو وہیل نے سو سو روپے کا ایزی لوڈ مانگا اور باخبر ذرائع کے مطابق تینوں بہ مشکل ہی یہ ٹاسک پڑھ پائے تھے ۔اس کے بعد خودکشی یا ٹاسک پورا کرنے میں سے ایک بات چننے سے پہلے وہ انجام کو پہنچے۔ایک پٹھان کو نسوار چھوڑنے کا ٹاسک ملا اور اس نے بلیو وہیل کی بات کا جواب دینے کے بجائے کنپٹی پر پستول رکھ کر گولی چلا دی ۔ دو گجر بھی بلیو وہیل کا شکار ہوئے ہیں۔دونوں کو نہانے کا ٹاسک ملا تھا ۔چار کالج کے لڑکوں کو ایک ہفتہ تک گرلز کالج کے سامنے جا کر ”بھونڈی“ سے روکا گیا تھا ۔تین نے مینار پاکستان سے نیچے چھلانگ لگا دی اور چوتھے نے شرط منظور کر لی ۔اور تین دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے جا ملا۔دو لڑکوں کو یہ ٹاسک ملا کہ وہ ہفتہ بھر ایک وقت میں صرف ایک ہی لڑکی سے افیئر چلا سکتے ہیں ۔ایک تو یہ سن کر ہی فوت ہو گیا دوسرے کے بارے معلوم ہوا ہے کہ اس نے ٹرین کے نیچے لیٹ جانے کو ترجیح دی ۔
ٹین ایجز کے ساتھ بڑی عمر کے افراد بھی اس قاتل گیم کا شکار بنے ۔کچھ سیاست دانوں نے بھی یہ گیم کھیلنے کی کوشش کی ان میں سے دو کو آخری ٹاسک سچ بولنے کا ملا ۔غریب دوسرا سانس ہی نہ لے پائے ۔ جبکہ تین کو بلیو وہیل نے سورة اخلاص سنانے کا حکم دیا ۔تینوں اس وقت کوما میں ہیں ۔آثار یہی نظر آ رہے ہیں کہ وہ آج یا کل تک اپنے دو ساتھیوں سے جا ملیں گے ۔
کچھ سرکاری اہلکار بھی اس قاتل گیم کا شکار بنے ۔تین جج جن سے پچاسویں ٹاسک میں عدل و انصاف کرنے کا وعدہ لینے کی کوشش کی گئی ۔کچھ پولیس والے جنھیں تا عمر رشوت نہ لینے کا حکم دیا گیا ۔دو آرمی کے جوان بھی ان میں شامل ہیں جنھیں اپنے سینئر کے حکم پر” نہیں سر“ کہنے کا ٹاسک ملا تھا ۔اور ان میں سے ایک بھی نہ بچ پایا۔
پانچ لاہوری بھی اس فہرست میں شامل ہیں جنھیں گدھے کے گوشت سے پرہیز کی ہدایت ملی تھی۔تین میڈیا چینل کے مالکان بھی بلیو وہیل شروع کر بیٹھے ۔انھیں برما کے مسلمانوں کے بارے تازہ ترین صورت حال بتانے کا ٹاسک دیا گیا تھا ۔تینوں کی نماز جنازہ آج شام ان کی مقامی جنازہ گاہ میں ادا کی جائے گی ۔
آخر میں بڑی ہمت اورکوشش سے پاکستان کے کچھ سائنس دانوں اور ہائیکرزنے مل کر بلیو وہیل گیم قائم علی شاہ کے موبائل میں انسٹال کر دی اور تاحال بلیو وہیل غائب ہے ۔تازہ خبر ملتے ہی گمنام بابا پھر حاضر ہو گا اس وقت تک کے لیے اجازت ۔
دل بچپن کے سنگ کے پیچھے پاگل ہے
کاغذ ، ڈور ، پتنگ کے پیچھے پاگل ہے

یار ! میں اتنی سانولی کیسے بھاؤں تجھے
ہر کوئی گورے رنگ کے پیچھے پاگل ہے

شہزادی ، شہزادہ خوش اور بنجارہ
ٹوٹی ہوئی اک ''ونگ'' کے پیچھے پاگل ہے

شہر- کبیر کی اک دوشیزہ ''ہیر'' ہوئی
اور موءرخ جھنگ کے پیچھے پاگل ہے

میں ہوں جھلی اس کے عشق میں اور وہ شخص
آج بھی اپنی ''منگ'' کے پیچھے پاگل ہے
اسکا اصل نام تو اسے خود بھی یاد نہیں تھا جب اس نے عقل وشعور سے بند اپنی آنکھ کھولی تو خود کو سانڈے سانڈے کہتے سنا..تو اس مسئلے کا حل اس نے کارڈ چھپوا کر کیا کیونکہ جس تقریب میں اسے جانا ہوتا تھا .وہ اصل نام بھول جاتا تھا .اس کے لیے کارڈ نکال کر وہ بتا تا تھا کہ اسکا اصل نام کیا ہے .اس کے متعلق ماں باپ میں مشہور تھا کہ وہ ایک اچھا لڑکا ہے کیونکہ پیدائش کے وقت اسکی آنکھیں بند تھیں.لیکن اس کے متعلق محلے داروں میں بہت سی باتیں مشہور تھیں کہ وہ مجذوب ہے اللہ والا ہے مکار ہے عیار ہے ..جو لوگ اسے اللہ والے سمجھتے تھے وہ اس لیے کہ وہ چوبیش گھنٹے نشہ میں دھت ہوتا تھا.محلے دار سمجھتے تھے کہ شاید وہ فنا ٖفی اللہ ہو چکا ہے . تفصیل سے پڑھیے
جو اسے مجذوب سمجھتے تھے وہ اس لیے کہ وہ چوریاں کرتا تھا..جو مکار سمجھتے تھے وہ اس لیے کہ وہ نیم وا آنکھوں سے لڑکیوں کو دیکھتا رہتا تھا.اس نے باپ کا نام میٹرک میں فیل ہو کر روشن کیا .کیونکہ وہ واحد آدمی تھا محلے کا جو میٹرک میں فیل ہوا تھا.تو باپ نے عزم صمیم کر کے اسے پڑھانے کا فیصلہ کیا تو اس نے میڑک میں ہیٹرک کر کے باپ کا سر شرم سے اونچا کر دیا..میٹرک میں فیل ہو کر اس نے ہمت نہ ہاری بلکہ گلی محلے کی حسین لڑکیوں کو پاکیزہ نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا .اور انہیں ایزی لوڈ کروا کے بولتا تھا کہ اس کی زندگی میں اس کے سوا کوئی اور نہیں ہے .میٹرک میں فیل ہو کر کالج کی دیواروں کا طواف شروع کر دیا شاید وہاں شنوائی ہو مگر گرلز کالج کے سامنے لڑکیوں کے والدین کیسے برداشت کرتے .ایک لڑکی کے والد نے تو اسے کچلنے کی سعی بھی کر ڈالی.لیکن یہ اس کی خوشی قسمتی تھی کہ گٹر کا ہول کھلا ہوا تھا .اس میں گر اپنی عزت کا فالودہ نکلوا کر اپنی جان بچائی .لیکن اس کا ایک فائدہ ہواکہ اس لڑکی اسے بھائی بنا لیا.اسے اس بات سے چڑ تھی کہ کوئی حسین وجمیل لڑکی اسے بھائی بنائے.اس نے کہا کہ ملک کے اندر ایک ہٹے کٹے باڈی بلڈر الطاف بھائی کیا کم ہیں کہ لڑکیاں ہر معصوم پرہیزگار کو بھائی بنانے پر تلی ہوئی ہیں.اس نے فوج کے اندر بھرتی ہونے کی کوشش کی مگر نقارہ خانے میں ڈبے کی کون سنتا .اس نے پریشان ہو کر سوچا کہ کیا جائے حالانکہ سوچتے تو صرف دماغ والے ہیں مگر پھر بھی اس نے باتھ روم کے اندر جاکر سوچا تو کوئی ترکیب نہ بنی تو اس نے روڈ پر آ کر سوچا ..اسے ایک رکشے والا ملا جس کے پیچھے لکھا ہوا تھا''' ہم کچھ نہیں لکھتے"'' ایک اور رکشہ گزرا جس پر ایک حسین اور جمیل لڑکی کی تصویر تھی جس کے پیچھے ایک لڑکا منہ بولی بہن کو چھوڑنے جا رہا تھا اور اس کی نگاہوں اس منہ بولی بہن کی باتوں سے زیادہ اس اشتہار پر مر کوز تھیں.کئی اور دوکاندار بھی بیویوں کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے.کیونکہ سب بےچارے کوئی وزیر تو نہیں تھے انہیں روبرو بیٹھا کر دیکھتے یا دوست محمد کھوسہ کی طرح اسے اپنے گھر بلاتے یاو وزیراعلیٰ تو نہیں تھے کہ انہیں دعوت دیتے نکاح کی.وہ اور بھی بہت کچھ دیکھ لیتے اگر ان کے پاس دستی کا نمبر ہوتا.. تو اس کے خالی ذہن میں ایک خیال چونکا اور دل کےاضطراب سے گھبرا کر اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہاں سے اپنی جان چھڑائی جائے اور شاعربن کر عالمی شہرت کمائی جائے.یہ ان کا خیال پایہ تکمیل تک پہنچتا اگر انہیں منشیات کے کیس میں جیل کے اندر نہ بھیج دیا گیا ہوتا.وہاں تو صرف تھانیدار اور سپاہیوں کی شاعری سننی پڑتی ہے.کیا کسی کی مجال کہ وہاں جا کر وہ اپنی شاعری سنائے.تھانیدار کے تخلیق کردہ عروض کو مدنظر رکھ کر تما م سپاہی اپنی غزلیں بے دھڑک سناتے ہیں اور سامعین سے داد وصول کرتے ہیں.اور جیل میں شاعری کا سر چکرا جاتا ہے کہ وہ کس اذیت میں مبتلا ہو گئی ہے
اسے کس نے رہا کروایا اسے خود بھی پتہ نہیں تھا.صرف اتنا اسے پتہ چلا کہ تھانیدار نے دو کلو چرس کا نذرانہ لے کر رات کے اجالے میں رہا کر دیا.اس نے سوچا کہ کیوں نہ سیاست بنوں .سائیکل مارچ کروں یا ایک پارٹی بنا کر ملک وملت کی خدمت کروں اور اپنے لیے ایک مناسب سا رشتہ تلاش کروں.اس نے جب اپنی باتوں کا تذکرہ بھولے خان عرف بھانڈے خان کو کیا تو اس نے حامی بھی لی .اور ساتھ ہی یہ شرط عائد کی کہ ملک کے اندر اس نئی پارٹی کا مرکزی دفتر کراچی میں نائن زیرو کے ساتھ ہو.یہ مضحک خیز شرط اسے سمجھ نہ آئی .بہر حال اس نے اپنا آفس وہاں بنایا اور کارکنوں کو لڑوایا خود اسلام آباد میں رہائش گاہ بنا کر پناہ حاصل کر لی ..آجکل سنا ہے کہ سانڈے میاں کی مقبولیت کا گراف اتنا بلند ہے کہ انہیں اپنا نام اخبار میں تلاش کرنے کےلیے عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے .اب تو انکانام کا طوطی بولتا ہے صرف وہ ایک طوطی بولتی ہے جو انہوں نے اپنے بڑے غریب جھونپڑے میں پالی ہوئی ہے.سانڈے میاں کی صلاحیتوں سے ہم بھی متاثر ہیں لیکن ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ جو بل اسمبلی سے سائبر کرائم کا پاس ہو ا ہے وہ ہم پر لاگو نہ ہو جائے.اس لیے سانڈے میاں سے خوفزدہ تیل کی قیمتوں سے افسردہ ہو کر ہم نے ایک گدھا پالا ہوا ہے جو سانڈے میاں کو گفٹ کرنا جانا ہے .بس دعا کرو کہ یہ دن جلدی آئے

آج کل میں اپنے آفس بوائے کو چوتھی دفعہ میٹرک کروا رہا ہوں اور یقین کامل ہے کہ یہ سلسلہ مزید پانچ چھ سال تک جاری رہے گا، ہر دفعہ وہ پوری تیاری سے پیپر دیتا ہے اور بفضل خدا، امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا ہے- اس دفعہ بھی پیپرز میں وہ جو کچھ لکھ آیا ہے وہ یقینا تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا- اسلامیات کے پرچے میں سوال آیا کہ “مسلمان کی تعریف کریں؟” موصوف نے جواب لکھا کہ “مسلمان بہت اچھا ہوتا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، وہ ہوتا ہی تعریف کے قابل ہے، اس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے، جو اس کی تعریف نہیں کرتا وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے، میں بھی اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اس کی تعریف کرتا رہتا ہوں، مسلمان کی تعریف کرنے سے بڑا ثواب ملتا ہے، ہم سب کو ہر وقت مسلمان کی تعریف کرتے رہنا چاہیے”-

اسی طرح مطالعہ پاکستان المعروف “معاشرتی علوم” کے پرچے میں سوال آیا کہ پاکستان کی سرحدیں کس کس ملک کے ساتھ لگتی ہیں، موصوف نے پورے اعتماد کے ساتھ لکھا کہ “پاکستان کے شمال میں امریکہ، مشرق میں افریقہ، مغرب میں دبئی اور جنوب میں انگلستان لگتا ہے”-

سائنس کے پرچے میں سوال تھا کہ “الیکٹران اور پروٹان میں کیا فرق ہے؟” عالی مرتبت نے پورے یقین کے ساتھ جواب لکھا کہ “کچھ زیادہ فرق نہیں، سائنسدانوں کو دونوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے”-


اردو کے پرچے میں ساغر صدیقی کے اس شعر کی تشریح پوچھی گئی “زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے……جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں”- جواب میں لکھا “اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ویسے تو میں نے بہت سے جرم کیے تھے، چوری بھی کی، ڈاکا بھی ڈالا، دہشت گردی بھی کی، لڑکیوں کو بھی چھیڑا، دو تین بندے بھی قتل کیے، لیکن یہ جو مجھے جج صاحب نے سزا دی ہے اس کا مجھے بالکل بھی پتا نہیں چل رہا کہ یہ کون سے والے جرم کی سزا ہے؟”

انگلش کے پرچے میں سوال تھا کہ اس جملے کی انگلش بنائیں ”جاؤ میرا سر مت کھاؤ”- جواب لکھا
 “Go, do not eat my head”-

مجھے بےاختیار اپنا میٹرک کا زمانہ یاد آ گیا جب ڈیٹ شیٹ گوند لگا کر الماری کے ساتھ چپکا دی جاتی تھی اور ایک کونے میں بیٹھ کر کتابوں کے درمیان “عمران سیریز” رکھ کر پورے خشوع و خضوع کے ساتھ دن رات پڑھائی شروع کر دی جاتی تھی، ماں صدقے واری جاتی تھی کہ میرا بچہ تین گھنٹے سے مسلسل پڑھ رہا ہے- پانی تک پینے کے لیے نہیں اٹھا- صبح پیپر دینے کے لیے اٹھتے تھے تو دل کانپ جاتا تھا، تا ہم ایسے مواقع پر ماں جی سورہ یٰسین پڑھ کر پھونک دیا کرتی تھیں اور دل مطمئن جو جاتا تھا کہ اب کوئی مسئلہ نہیں- گھر سے نکلنے سے پہلے امتحانی گتے کے ہمراہ کافی سارے پین اور روشنائی کی شیشی ہمراہ رکھ لی جاتی تھی مبادا پرچے کے دوران یہ سارے پین ختم ہو جائیں- امتحانی مرکز میں پہنچتےہی کوئی کمینہ سا لڑکا اچانک یہ کہہ کر “تراہ” نکال دیتا تھا کہ “فلاں سوال آ رہا ہے”- یہ سنتے بھی ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے اور جلدی سے کسی لڑکے سے کتاب پکڑ کر “فلاں سوال” پر ایک نظر ڈال لی جاتی تھی کہ کچھ نہ کچھ تو ذہن میں رہ جائے- پیپر شروع ہوتا اور جونہی سوالیہ پرچہ سامنے آتا فوراًالٹا کر کے رکھ لیا جاتا تھا، پہلے تین چار سورتیں پڑھ کے دعائیں مانگی جاتی تھیں، پھر پرچے کو آہستہ آہستہ الٹ کر دیکھا جاتا تھا، سوال مرضی کے ہوتے تو ٹھیک ورنہ جواب مرضی کے لکھنا پڑ جاتے تھے- جس سوال کا جواب دینا ہوتا تھا اس پر پین سے نشان لگا دیا جاتا، سب سے پہلے مارکر سے حاشیے لگائے جاتے، پھر سرخ مارکر سے سوال لکھ کر جواب کا رخ کیا جاتا، کوشش کی جاتی کہ جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ جواب کے شروع میں تفصیلاً دہرا دیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ صفحہ بھرا جا سکے، مثلاً اگر سوال ہوتا کہ “قائداعظم کے چودہ نکات بیان کریں” تو جواب کچھ یوں شروع کیا جاتا

“جیسا کہ سوال میں پوچھا گیا ہے کہ قائداعظم کے چودہ نکات بیان کریں تو یہ چودہ نکات تفصیل سے بیان کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان چودہ نکات کی بڑی اہمیت ہے، لہذا قائداعظم کے چودہ نکات باری باری درج کیے جا رہے ہیں، سوال میں پوچھے گۓ قائداعظم کے چودہ نکات کا پہلا نکتہ یہ ہے…..”

ایسے میں پرچہ شروع ہوئے بمشکل آدھا گھنٹہ ہی گزرتا تھا کہ کونے سے کسی لڑکے کی آواز آتی “سر ایک شیٹ دے دیں”- اور دل اچھل کر حلق میں آ جاتا تھا، سمجھ نہیں آتی تھی کہ کمبخت نے آدھے گھنٹے میں ایسا کیا لکھ لیا ہے کہ آٹھ صفحے بھر گئے ہیں، ایسے لڑکے پرچے کے بعد فخر سے بتایا کرتے تھے کہ وہ دس شیٹیں ایکسٹرا لگا کر آئے ہیں، میری حسرت ہی رہی کہ کاش میں کم از کم ایک شیٹ ہی ایکسٹرا لگا سکوں، لیکن ایسی نوبت کبھی نہ آ سکی، الٹا جب میں پرچہ ختم کرتا تو ایک صفحہ خالی رہ جاتا-

پرچہ شروع ہونے کے مراحل بھی بڑے دلچسپ ہوا کرتے تھے، جیسے ہی سوالیہ پرچہ تقسیم ہو جاتا، قرب و جوار کے لڑکوں میں سر گوشیاں شروع ہو جاتیں، سب کا ایک دوسرے سے ایک ہی سوال ہوتا تھا “یار! صرف پہلا لفظ بتا دو”- کسی لڑکے کو اگر اتفاق سے سارے سوالوں کے جوابات یاد ہوتے تو وہ “فرعون” بن جاتا تھا، اس کا سگا بھائی بھی اس کی منتیں کرتا تو اس کی ایک نہ سنتا بلکہ شان بے نیازی سے کندھے اچکا کر رہ جاتا، بلکہ کئی دفعہ تو نگران کو بھی کہہ دیتا کہ “سر! یہ دیکھیں یہ مجھے تنگ کر رہا ہے”-

پیپر کے دوران “بوٹیاں’ لگانے کا رواج عام تھا تاہم اس دور میں بڑی “دیسی” قسم کی بوٹی لگائی جاتی تھی، مثلاً باتھ روم میں کتاب رکھ دی اور بعد میں ہر دو منٹ بعد ایک پھیرا لگا آئے، یا قمیض کی اندر والی سائیڈ پر کچی پنسل سے کچھ “نوٹس’ لکھ لیے، کچھ بے باک لڑکے کاغذوں کی چٹیں بھی چھپا کر لے آتے تھے- میرا ایک دوست ایک دفعہ اسی طرح چٹ سے نقل لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، لیکن اول درجے کا ہوشیار تھا، اس سے پہلے کہ نگران ثبوت کے طور پر اس سے چٹ چھینتا، اس نے جلدی سے کاغذ کا گولا بنایا اور منہ میں ڈال کر نگل لیا، نگران منہ پھاڑے دیکھتا ہی رہ گیا- سب سے دلچسپ پیپر ریاضی کا ہوتا تھا، سوال بیشک کسی کو نہ آتے ہوں، لیکن سب اپنے جواب ضرور ملا لیا کرتے تھے، اس مقصد کے لیے کلاس کے سب سے ہونہار لڑکے سے سرگوشی میں پوچھا جاتا تھا کہ جواب کیا آیا ہے؟ اگر وہ کہتا کہ 56، تو تھوڑی دیر میں سب کے پرچوں پر 56 تحریر ہو چکا ہوتا تھا- جو لڑکا سب سے پہلے پرچہ ختم کر کے اٹھتا، اسے پکا پکا فیل تصور کر لیا جاتا تھا- مزے کی بات یہ کہ ایسے تمام تر جوابات لکھنے کے باوجود لڑکوں کی اکثریت 33 نمبر لے کر پاس ہو جاتی تھی کیونکہ الحمدللہ پیپر چیک کرنے والے بھی ہماری طرح کے ہوتے تھے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ “گٹھیں” ناپ کر نمبر دیتے ہیں- اللہ ان سب کی مغفرت کرے کہ انہی کی بدولت آج میرے جیسے بہت سے جاہل، عزت دار بنے ہوےٴ ہیں-


قد کے معاملے میں انشاء کے قول کی مثال کہ ٹانگیں زمیں تک پہنچ جائیں اور دیکھنے میں یوسفی کے اس قول کی زندہ تصویر کہ کبھی کسی بڑے آدمی کا سایہ تک نہیں پڑنے پایا۔مگر آدمی بہت خاص۔ یوں سمجھیئے کہ ارسطو ، بقراط اور سقراط جن مضامین میں کمزور تھے یہ حضرت ان میں ید طولی رکھتے تھے۔ ایک بار اک جاہل مطلق کواسکا مطلب سمجھانے بیٹھے تو فرمانے لگے کہ بھائی قانون کے لمبے ہاتھوں والی بات ہی سمجھو۔ اس تشریح پر ہم کافی دیر تک سر دھنتے رہے۔ آخرخود ہی تنگ آ کر کہنے لگے کہ میاں بس کچھ احباب سمجھ رہے ہیں تم لوگوں نے بوٹی پی رکھی ہے۔
پہلی ملاقات میں ہی میں انکا معتقد ہوگیا۔ اور ۶۰ گز پگڑی پیش کر دی۔ فرمانے لگے کہ ہماری غریب قامتی کا اس سے زیادہ مذاق آج تک کسی نے نہیں اڑایا۔ ناراض ہو گئے۔راقم نے اس گستاخی کےازالہ کے لیئے پگڑی واپس لینی چاہی تو باقاعدہ ناراض ہو گئے۔اک دن وجد میں آکر فرمانے لگے میاں تم دنیا کے واحد خوش نصیب آدمی ہو جو پہلی بار میں ہی معتقد ہوئے ورنہ لوگ اس کام میں برسوں لگا دیتے۔
نظریات بہت ہٹے ہوئے۔ اکثر راہ راست سے ۔ اک بار کہنے لگے کہ ہم اس سے ہٹ کر چلتے ہیں جو راستہ عام ہو جائے۔ اور اسکی عملی تصویر یوں پیش کی کہ ہمیں ساتھ لے کر جو اقبال پارک کے لیئے نکلے تو پورا لاہور پھروا دیا۔ واپسی پر اک گستاخ نے اسقدر طویل راستے سے بچنے کے لیئے اک راہگیر سے راستہ پوچھا تو وہ یوں بتانے کھڑا ہو گیا گویا راستہ بتانے کے لیئے ترسا ہوا ہو۔ کہنے لگا بھائی یہاںسامنے سے بس پر بیٹھیئے اور سیدھے جا پہنچیئے۔ہمارا ایمان تو متزلزل نہ ہوا مگر اس حرکت سے اک بنا بنایا مرید جاتا رہا۔ کئی سال بعد جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت رویااور معافی مانگی۔ ماسٹر نے اسے کھلے دل سےمعاف کر دیا مگر راستوں کے بارے رہنمائی فرمانے سے انکاری ہو گئے۔سنا ہے کہ وہ راہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتا تھا۔ واللہ اعلم
دوستوں کی محفل میں بیٹھنے سے گریز کرتے۔ کم مرتبہ لوگ اکثر شان میں گستاخی کر دیتے مگر ماسٹر کی پیشانی پر کبھی بل نہ آیا۔ ہمیشہ کھلے دل سے سب سنا۔ بسا اوقات جب راقم کی محبت جاگتی اور وہ جواب دینےکی کوشش کرتا تو منع کردیتے۔کہتے انکی زبان درازی کی بجائے تمہاری تصریحات تکلیف دیتی ہیں۔ ایسی ہی اک محفل میں اک بار اک گستاخ رانجھے کی قربانیوں کا تذکرہ بڑے زوروشور سے کر رہا تھا۔ کچھ دیر سنتے رہے ۔ آخر کان پھڑکنے لگے اور پھر خود بھی۔ برداشت نہ ہوا اور اسے خوب جھاڑ پلائی۔ فرمانے لگے جھوٹے تھے سب ۔ کام چور تھا رانجھا۔ بھینسیں بھی نہیں چراتا تھا الٹا مالکوں کی ہی لڑکی پر ڈورے ڈالنے لگا۔ انہوں نے نکال دیا تو جوگی بن کر مانگ مانگ کھانے لگا۔ کام پھر نہ کیا۔ مہینوال اتنا کمینہ تھا کہ دریا کنارے بیٹھا رہتا اور کبھی تیر کر ادھر آنے کی ہمت نہ کی۔ سوہنی جب ڈوب کر مر رہی تھی تو دوسرے کنارے بیٹھا دیکھتا رہا۔ اور پھر کسی اور تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اک بخت برگشتہ نے لقمہ دیا کہ اس نے بھی سنا ہے چھلانگ لگا دی تھی تو سیخ پا ہو کر کہنے لگے۔ کہاں چھلانگ لگا دی تھی۔ ڈٹھے کھوہ میں؟ یہ نظارہ چشم فلک نے تو نہیں دیکھا۔ پنوں کو تو ہمیشہ ہی گالیاں دیتے۔ فرماتے تھے کہ وہاںوقت گزاری کے لیئے سسی سے گپیں مار رہا تھا کہ پیچھے گاوں سے یار لوگ آدھمکے اوئے چل یارا واپس۔ نکل کھڑا ہوا کہ ہم تو پردیسی ہیں بھائی۔ مجنوں کا ذکر جن الفاظ میں کرتے راقم الحروف ان کو کسی بھی طرح کے اشاعتی جملے میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اور مرزا پر تو خاص شفقت فرماتے۔
بےنیازی اس قدر تھی کہ اکثر نیازی انہیں اپنا دشمن خیال کرتے۔ درویشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ گماں ہے کہ فرشتے تو ابھی اور کوٹ رہے تھے پر موصوف دنیا میں رونق افروز ہو گئے۔ غائب ہوتے تو کئی کئی دن پتہ نہ ملتا۔ مگر رمز شناس خوب سمجھتے تھے کہ کہاں ملیں گے اور جا دبوچتے تھے۔ گرچہ آپ ایسے موقعوں پر پہچاننے سے انکاری ہو جاتے تھے مگر احباب کا بھی آزمودہ نسخہ تھا کہ چند قطرے عرق لیموں یادداشت واپس لانے کا بہترین حل ہے۔ زمانہ تو اور بھی خرافات پر تہمت نصیب گردانتا ، مگر لوگ کہتے ہیں تو کیا سچ کہتے ہونگے کہ مصداق ہم نے ہمیشہ نظریں پھیر لیں۔ اسی معاشرے کو سدھارنے کے لیئے کچھ عرصہ شعبہ تدریس سے بھی منسلک رہے۔ مگر جلد ہی مایوس ہو گئے ؛ کہنے لگے کہ یہ قوم نہیں ترقی کر سکتی جب تک پڑی لکڑی اٹھانے کی عادت نہیں جاتی۔ اور بات پرنسپل کا سر پھٹنے پر ختم ہوگئی۔ عینی شاہدین کی خرافات گوئی کے باوصف بھی راقم الحروف کی عقیدت میں کوئی کمی نہ آئی۔ اور ثابت قدمی سے شاگردی جاری رکھی۔
شاعری سے بھی شغف تھا۔ مگر عشق مجازی کو بنیاد قرار دیتے تھے۔ مدت گزر جانے پر بھی بنیاد میں ہی مستغرق پا کر حفظ مراتب کو مدنظر رکھ کر جی کڑا کے عرض گزاری کہ قبلہ کچھ بنیاد پر اب تعمیر بھی کیجیئے۔ یہ بنیاد در بنیاد تو اب بلندی میں کے-ٹو کو بھی مات کر رہی۔ تو خلاؤں میں گھورنے لگے۔ پھر سامنے دیکھ کر کہا کہ شیفتہ کی بھی کیا خوب غزل ہے۔ میں نے فورا نگاہوں کے تعاقب میں دیکھاتو عرض کرنا پڑی کہ یہ شیفتہ کی نہیں ، خلاق اعظم کی غزل ہے۔ تو بے اختیار سر دھننے لگے اور فرمایا یہ قافیہ ردیف دنیاوی شاعروں سے ممکن ہی کہاں تھا۔ علم عروض پر کمال دسترس تھی اور وجہ گاؤں کے تمام پٹواریوں سے یارانہ بتاتے تھے۔
منہ کا ذائقہ بدلنے کو ملازمت بھی کرتے تھے۔ مگر سال کا زیادہ حصہ موزوں ملازمت تلاشنے میں گزارتے۔ ۶سال گزرنے پر بھی مبتدی کے عہدے سے آگے نہ بڑھے۔ تو اک زباں دراز نے کہا ابھی تک ابجد خواں؟ اس پر تحمل اور بے نیازی دیکھنے لائق تھی۔ کمال سکون سے فرمانے لگے۔ کہ پہلے اس شعبہ میں رنگروٹ تھے۔ پھر اس شعبہ میں، پھر اس میں۔ اور آج کل اس میں مبتدی ہیں۔ اکثر لوگ جب کچھ عرصہ بعد ملتے تو پوچھتے کہ آجکل کس شعبہ کو مشق ستم بنا رکھا ہے۔ ایسے میں ماسٹر کے آنکھوں میں اک عجیب سی چمک آجاتی۔ اور چہرہ نور پورہ کی مثال پیش کرنے لگتا۔