Showing posts with label اردو غزل،. Show all posts
Showing posts with label اردو غزل،. Show all posts
دل بچپن کے سنگ کے پیچھے پاگل ہے


دل بچپن کے سنگ کے پیچھے پاگل ہے
کاغذ ، ڈور ، پتنگ کے پیچھے پاگل ہے

یار ! میں اتنی سانولی کیسے بھاؤں تجھے
ہر کوئی گورے رنگ کے پیچھے پاگل ہے

شہزادی ، شہزادہ خوش اور بنجارہ
ٹوٹی ہوئی اک ''ونگ'' کے پیچھے پاگل ہے

شہر- کبیر کی اک دوشیزہ ''ہیر'' ہوئی
اور موءرخ جھنگ کے پیچھے پاگل ہے

میں ہوں جھلی اس کے عشق میں اور وہ شخص
آج بھی اپنی ''منگ'' کے پیچھے پاگل ہے
متھے لگا تو اب کے مع پنگا تمام شد
ہم بھی گئے تو ساتھ ہی انڈیا تمام شد

اِس بار بھی پکارتے پھرتے ہیں حکمراں
پھر کوئی حادثہ اور پنامہ تمام شد

مہمان کی ہے توند یا گودام ہے کوئی
ٹبر کو دیر کیا ہوئی کھانا تمام شد

کیا ہو گیا ہے عقد کے ہوتے ہی آپ کو
یوں چرمرا گئے ہیں کہ گویا تمام شد

کیدو چچا کےغیض سے لگتا تو ہے مجھے
رانجھے میاں کا گوڈا و گٹا تمام شد

پھر سے وہی روٹین، وہی دال بھات ہے
عیدِ بقر گزر گئی، بکرا تمام شد

منظر کے انتخاب نے چھت سے گرا دیا
سیلفی کے اشتیاق میں بندہ تمام شد

تجھ سے غریب خانہء لیڈر کی کیا کہوں
دو چار ہی کنال میں بنگلا تمام شد

مٹیار کا جو ویر ہے، اِک داند ہے ظفر
ہتھے چڑھا تو جانئے پھجا تمام شد