Showing posts with label شاعری،. Show all posts
Showing posts with label شاعری،. Show all posts
دل بچپن کے سنگ کے پیچھے پاگل ہے


دل بچپن کے سنگ کے پیچھے پاگل ہے
کاغذ ، ڈور ، پتنگ کے پیچھے پاگل ہے

یار ! میں اتنی سانولی کیسے بھاؤں تجھے
ہر کوئی گورے رنگ کے پیچھے پاگل ہے

شہزادی ، شہزادہ خوش اور بنجارہ
ٹوٹی ہوئی اک ''ونگ'' کے پیچھے پاگل ہے

شہر- کبیر کی اک دوشیزہ ''ہیر'' ہوئی
اور موءرخ جھنگ کے پیچھے پاگل ہے

میں ہوں جھلی اس کے عشق میں اور وہ شخص
آج بھی اپنی ''منگ'' کے پیچھے پاگل ہے
تری تیاریوں کا شوق مجھ کو مار جاتا ہے
ترے نخرے نہیں مکتے، مرا اتوار جاتا ہے

وہ اِتنے شوق سے تو نان بھی لینے نہیں جاتا
کہ جتنے شوق سے لالا پئے نسوار جاتا ہے

ٹریننگ لی ہوئی ہے تونے آخر کس sniper سے
تری نظروں کا ناوک تو جگر کے پار جاتا ہے

محبت کس طرح پنپے، کروں میں کس طرح پیچھا
میں دو ٹانگوں پہ ہوتا ہوں، وہ لے کے کار جاتا ہے

یوں بڑھکیں مارتا ہے اپنے قد سے بھی بڑی لیکن
کسوٹی جب بھی لگتی ہے تو انساں ہار جاتا ہے

اسے ہے خوش گمانی کہ شجر پر نوٹ لگتے ہیں
بڑے ہی شوق سے کوئی سمندر پار جاتا ہے

مزے سے بیٹھ کر گھر میں جگالی کر رہا ہے وہ
کوئی اُس کو بھی بتلائے ترا بیمار جاتا ہے

زمانہ جو ہمیں فٹبال سمجھے، ٹھوکریں مارے
اُسی کو داڑھ میں دابے بُتِ عیّار جاتا ہے

اُسے مردے بھی سُن لیں تو اٹینشن ہو کے رہ جائیں
ظفر کوئی الاپے رات کو ملہار جاتا ہے
بچوں کو کوئی کر نہ سکا زینہار چپ
آنکھیں دکھا دکھا کر کہا بار بار چپ!

کیسے گلی میں سب پر کھلے شان آپ کی
گیراج میں کھڑی ہو اگر کوئی کار چپ

یاروں میں جس کو چپ بھی کرانا محال تھا
سسرال میں ہے صورتِ سنگِ مزار چپ

خاموش ووٹروں کو دلیلیں نہ بھا سکیں
نعرہ زنوں نے کی ہے ہمیشہ شکار چپ

اک گھر میں ہو گیا جو بپا خانگی غدر
بچھ سی گئی محلے میں بے اختیار چپ

وہ جب بھی لب کشا ہوئے ماری ہیں بونگیاں
اُن کے لئے ہے رحمتِ پروردگار چُپ

کن شورشوں کے فیض سے ہم کو عطا ہوئی
سنسر کی چوسنی کی طرح پائیدار چپ

جب صور پھونکا جائے گا تو ہڑبڑائیں گے
ورنہ ہے صدرِ مملکت کی شاہکار چپ

ماتھے پہ دُر فٹے منہ نوشتہ ہے سربسر
بننے لگی کسی کی عجب اشتہار چپ

محفل میں آج منہ تو کسی کا ہے زپ شدہ
یہ اور بات، ایک جگت کی ہے مار چپ

پنگا لیا تو سمجھو وہیں خاتمہ ہوا
گویا ہے بیگمات کی بجلی کی تار چپ

کیوں حزبِ اختلاف شرافت سے بیٹھ جائے
مئے نہ ملے تورہتے نہیں باد خوار چپ

اب چورشور سب سے زیادہ کرے ظفر
دنیا میں اب رہی ہے کہاں سازگار چپ
کھاتا ہی رہا شوق سے میں پان وغیرہ
اور پان مرے کھا گئے دندان وغیرہ

کھینچیں نہ اگر اِن کو پکڑ کر تیرے سسرے
کس کام کے آخر یہ ترے کان وغیرہ

جب شامتِ اعمال نے گچی میری پکڑی
میرے تو اُڑا لے گئی اوسان وغیرہ

لازم ہے کہ اعمالِ کرپشن میں ہوں یکساں
جمہوری حکومت کے نگہبان وغیرہ

تعمیرِ وطن کے لئے اربابِ وطن کو
لیڈر نہیں درکار ہیں ترکھان وغیرہ

ہے خدمتِ قومی کے لئے شرطِ ضروری
مل جائے وزارت کا قلمدان وغیرہ

شرمندہ ہیں ہم ایرے و غیرے یہاں جی کے
پائندہ ہیں پردھان شری مان وغیرہ

کس نیکی کے چکر میں سرِ کوئے نگاراں
بانٹ آتے ہیں عشاق دل و جان وغیرہ

یوں پھیلتا جاتا ہے کوئی فضلِ خدا سے
تنگ پڑنے لگے کمرہ و دالان وغیرہ

اُس شخص کی کج فہمی کے انداز تو دیکھو
لیڈر کو سمجھتا ہے جو انسان وغیرہ

اُس شوخ کی خاطر میں گلے کس کے پڑا تھا
دامن سے لگا آ کے گریبان وغیرہ

اسپیڈ ذرا کم ہی رہے جوشِ جنوں کی
ہو جاتا ہے اُس کوچے میں چالان وغیرہ

اشعار سنانے کا کوئی رسک کیا لیتا
ہم نے بھی اُٹھا رکھا تھا دیوان وغیرہ
متھے لگا تو اب کے مع پنگا تمام شد
ہم بھی گئے تو ساتھ ہی انڈیا تمام شد

اِس بار بھی پکارتے پھرتے ہیں حکمراں
پھر کوئی حادثہ اور پنامہ تمام شد

مہمان کی ہے توند یا گودام ہے کوئی
ٹبر کو دیر کیا ہوئی کھانا تمام شد

کیا ہو گیا ہے عقد کے ہوتے ہی آپ کو
یوں چرمرا گئے ہیں کہ گویا تمام شد

کیدو چچا کےغیض سے لگتا تو ہے مجھے
رانجھے میاں کا گوڈا و گٹا تمام شد

پھر سے وہی روٹین، وہی دال بھات ہے
عیدِ بقر گزر گئی، بکرا تمام شد

منظر کے انتخاب نے چھت سے گرا دیا
سیلفی کے اشتیاق میں بندہ تمام شد

تجھ سے غریب خانہء لیڈر کی کیا کہوں
دو چار ہی کنال میں بنگلا تمام شد

مٹیار کا جو ویر ہے، اِک داند ہے ظفر
ہتھے چڑھا تو جانئے پھجا تمام شد
کس سے کہوں کہ نیند نہیں آرہی مجھے
کس سے کہوں کے پڑھ کے زرا پھونک دیجیئے
ﻋﺎﻟﻢِ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
 ﻋﺸﻖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ
ڈهير باتيں ہيں ڈهير شكوے ہيں,,

خود سے كرتا هوں, خود سے لڑتا هوں